دوحہ: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر برطانیہ نے اپنے رائل ایئر فورس (RAF) کے جائنٹ ٹائفون سکواڈرن کے لڑاکا طیارے قطر میں تعینات کر دیے ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے خلیج میں تعیناتی کے لیے 12 سکواڈرن کو متحرک کیا ہے، جو برطانیہ اور قطر کی مشترکہ یونٹ کے طور پر دفاعی ذمہ داریوں کو سنبھالیں گے۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ اقدام دفاعی مقاصد اور دونوں ممالک کے دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق قطر میں 4 ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ یہ طیارے صرف دفاعی مقاصد کے لیے بھیجے گئے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کر دی ہے، جس میں بحری جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ائیر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے قریب احتیاطی طور پر فورس تعینات کر رہا ہے اور دیکھنا ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی نہیں کرے گا، تاہم اگر ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرتا ہے تو امریکا جواب دینے پر مجبور ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ کے وزیراعظم نے امریکی صدر کے بیان پر معافی کا مطالبہ کر دیا
یاد رہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو خطرناک اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے فوری طور پر معافی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سر کیئر سٹارمر نے ایک بیان میں کہا کہ اگر میں نے ایسا بیان دیا ہوتا تو یقینی طور پر معافی مانگتا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکا کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نیٹو افواج کے تحت 457 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ نیٹو فوجی افغانستان میں جنگ کے دوران فرنٹ لائن سے دور رہے۔
برطانوی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا، جبکہ کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر کیمی بیڈینوک نے بھی اس بیان کو فضول بکواس قرار دیا۔
دوسری جانب امریکا میں مقیم برطانیہ کے شہزادہ ہیری نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ افغانستان میں نیٹو افواج کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
شہزادہ ہیری نے مزید کہا کہ میں نے بھی افغانستان میں فوجی خدمات سرانجام دیں، دوست بنائے، دوستوں کو کھویا، اور اس دوران بہت سے والدین اپنے بچوں کو دفن کرتے دیکھے، جبکہ بچے والدین کے بغیر رہ گئے۔





