پشاور: سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی سے متعلق نوٹیفکیشن خیبرپختونخوا حکومت کا ہے اور اسی نوٹیفکیشن کے تحت نقل مکانی کے لیے پیسے بھی دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سارا نوٹیفکیشن صوبائی حکومت کا ہے، یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری اور اونرشپ تھی، جبکہ وفاقی حکومت یا فوج کی جانب سے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر ان پر ذمہ داری ڈالی جا سکے۔
مزمل سہروردی نے کہا کہ بیانیے بنانا آسان ہے، لیکن تکنیکی اور قانونی طور پر معاملہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اگر آج صوبائی حکومت اس معاملے سے لاتعلقی اختیار کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا اپنا حق ہے، تاہم وفاقی حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ تیراہ دہشت گردی کا ایک بڑا گڑھ بن چکا ہے، جہاں متعدد ہائی پروفائل دہشت گردی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔تیراہ دہشتگردی کا ایک بڑا گڑھ بن چکا ہے جہاں دہشتگردوںاور سمگلرز نے گٹھ جوڑ بنا رکھا ہے۔
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ون ڈرگ کی سب سے بڑی کاشت اسی علاقے میں ہوتی ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی منشیات کی منڈی بھی وہیں قائم ہے۔ جب ڈرگ ڈیلرز اور دہشت گرد ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوں تو اس صورتحال کا خاتمہ کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رہتے ہیں لیکن اگر مکمل طور پر دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہو تو صوبائی حکومت کو کسی نہ کسی طریقے سے علاقوں کو کلیئر کرنا پڑتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مربوط حکمت عملی درکار ہوتی ہے، جس کے تحت صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور مقامی مشران کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جو سب کے سامنے ہے۔
مزمل سہروردی کے مطابق اس معاہدے کے تحت صوبائی حکومت نے چار ارب روپے جاری کیے، جن میں سے دو ارب روپے تقسیم بھی کیے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس ملک کے فیصلے سوشل میڈیا کے خوف سے کیے جائیں گے، یا چند بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز کے دباؤ پر حکومتیں اپنی قومی ذمہ داریاں ادا نہیں کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو چند یوٹیوبرز کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنایا جا سکتا کہ وہ باہر بیٹھ کر پالیسی بنائیں اور وزیراعلیٰ سوشل میڈیا کے دباؤ میں آ کر اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی نے پہلے تمام اقدامات کیے، لیکن اب وہ سوشل میڈیا کے دباؤ میں آ کر پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
مزمل سہروردی نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ سہیل آفریدی کے لیے کسی صورت اچھی علامت نہیں۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ کے طور پر ان کی ایک کمزور شخصیت کا تاثر سامنے آ رہا ہے، جو فیصلے کر کے پھر ان سے مکر جاتا ہے، ایک قدم آگے بڑھا کر واپس آ جاتا ہے، جس سے کوئی بات طے نہیں ہو پاتی۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی فیصلہ ہو بھی جائے تو اگلے دن اس سے بھی پیچھے ہٹ جانا ایک غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی کو ظاہر کرتا ہے اور مجموعی طور پر ایک کمزور قیادت کا تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے۔





