سانحہ راولپنڈی: بھارت کا دوہرا چہرہ بے نقاب ، دہشت گردی کی پشت پناہی اور متنازع بیان بازی

راولپنڈی: راولپنڈی میں پیش آنے والے افسوسناک خود کش حملے کے بعد بھارت کا دوہرا چہرہ ایک بار پھر عیاں ہو گیا ہے۔

بھارت ایک طرف پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے اور اپنے پراکسی نیٹ ورک کے ذریعے عدم استحکام پھیلا رہا ہے، تو دوسری جانب ایسے موقع پر رسمی مذمت کے بیانات جاری کر کے خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ دوغلا پن اور دوہری پالیسی واضح کرتی ہے کہ بھارت دہشت گردی کے الزامات سے بچنے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

جب بھی پاکستان میں سانحات پیش آتے ہیں، ان کے پیچھے بھارت اور اس کے پراکسی نیٹ ورک کی ملوثیت واضح طور پر نظر آتی ہے، جو بھارتی رویے کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : راولپنڈی مسجد دھماکہ،شہداء کی تعداد 31 ہوگئی، متعدد زخمی

یاد رہے کہ راولپنڈی شہر کے مضافات میں واقع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور 169 زخمی ہوگئے ہیں۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں شہید ہونےوالوں کی تعداد 31 ہوگئی ہے جبکہ 169 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار کو پہلے ہی دیکھا گیا تھا اور اسے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ٹارگٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی خود کو دھماکے سے اڑا دیا.

سانحے میں 31 معصوم نمازی شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، پولیس کے مطابق خودکش بمبار کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔

پولیس اور سیکورٹی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر کارروائی کر رہے ہیں۔

دھماکے کے فوری بعد جڑواں شہروں کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

Scroll to Top