پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی معاہدہ، تاجروں کے لیے سہولت کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر آئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ازبکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی تاجروں کو اگلے 10 سال تک ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

یہ اعلان اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان ازبکستان بزنس فورم کے دوران کیا گیا، جس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، ازبک صدر، دونوں ممالک کے وزرا، اعلیٰ حکام اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات اور تجارتی روابط میں تیزی سے اضافہ خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے درمیان 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر عملدرآمد ایک بڑی پیشرفت ہے اور گزشتہ بزنس فورم کے نتیجے میں باہمی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بزنس فورم باہمی اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 450 ملین ڈالر کی تجارتی سرگرمیاں ممکن ہوئیں، اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان نے باہمی تجارت کا حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے ازبک صدر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ازبکستان کی مجموعی پیداوار گزشتہ 10 سال میں دوگنا ہوئی اور 85 لاکھ افراد کو غربت سے نکالا گیا۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ازبک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرے گا۔

ازبک صدر شوکت مرزائیوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کثیرالجہتی شکل اختیار کر چکے ہیں اور بزنس فورم کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد سے تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

صدر مرزائیوف نے اعلان کیا کہ پاکستانی تاجروں کو ازبکستان میں 10 سال کے لیے ٹیکس استثنیٰ دیا جائے گا۔ انہوں نے صحت، ٹیکسٹائل، ادویات، آلات جراحی، زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں بھرپور تعاون کی پیشکش بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں : اپوزیشن کی 8 فروری ہڑتال کی کال، مولانا فضل الرحمان بھی حمایت کے لیے سامنے آ گئے

بزنس فورم کے دوران معدنیات، کان کنی، ٹیکسٹائل، زراعت اور طبی شعبے میں تعاون سے متعلق مختلف دستاویزات اور مفاہمتی یادداشتوں کا بھی تبادلہ کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر ہوا۔

Scroll to Top