لاہور:اردو ادب کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو مداحوں سے بچھڑے آج 48 برس بیت گئے، تاہم ان کی علمی، ادبی اور تخلیقی خدمات آج بھی زندہ ہیں۔
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم خصوصاً بچوں کے ادب میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ بچوں میں بے حد مقبول کردار ٹوٹ بٹوٹ انہی کی تخلیق ہے، جو آج بھی کئی نسلوں کی یادوں میں تازگی کے ساتھ موجود ہے۔ وہ 4 اگست 1899 کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے تدریس کے شعبے کو اختیار کیا اور لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے۔
تدریسی خدمات کے بعد وہ خانۂ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر، معروف ادبی جریدے **لیل و نہار** کے مدیر اور دیگر اہم اداروں میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔
بچوں کا ادب صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی شناخت کا نمایاں حوالہ ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری اور نظموں کے ذریعے بچوں کو نہ صرف تفریح فراہم کی بلکہ انہیں علم، اخلاق اور عمل کی جانب بھی راغب کیا۔ ان کی تخلیقات آج بھی بچوں کے ادب میں ایک قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : معروف ڈرامہ نویس اور ناول نگار بانو قدسیہ کو ہم سے بچھڑے 9 سال بیت گئے
ان کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا، جبکہ ایرانی حکومت کی جانب سے انہیں نشانِ سپاس بھی عطا کیا گیا۔
اردو ادب کا یہ روشن ستارہ 7 فروری 1978 کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں، تاہم ان کا تخلیقی ورثہ آج بھی اردو ادب میں زندہ و جاوید ہے۔





