دبئی میں پیاز کاٹنے سے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، کرکٹر عثمان طارق کی محنت رنگ لے آئی

دبئی کے ایک ریستوران میں پیاز کاٹنے والے ہاتھوں سے لے کر ورلڈ کپ کے میدان میں گیند گھماتے بازو تک کا سفر آسان نہیں تھا مگر عثمان طارق نے محنت، قربانی اور غیر متزلزل عزم سے یہ ناممکن ممکن کر دکھایا۔

 خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے عثمان طارق آج پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ ہیں جہاں انہیں ٹیم کا ’ایکس فیکٹر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل 28 سالہ سپنر عثمان طارق کی کہانی جدوجہد، حوصلے اور ثابت قدمی کی روشن مثال بن چکی ہے۔

کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد خاندان کی ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر آ گئیں، جس کے باعث روزگار کی تلاش میں انہیں دبئی اور افغانستان جانا پڑا۔

دبئی میں عثمان طارق نے ایک ریستوران میں کئی گھنٹے کھڑے ہو کر پیاز کاٹنے جیسی کڑی ملازمت کی، جس سے ان کی صحت بھی متاثر ہوئی، مگر کرکٹ کا خواب کبھی مدھم نہ پڑا۔

حالات سے تنگ آ کر روزگار چھوڑ کر پاکستان واپس آنا ایک بڑا خطرہ تھا، تاہم یہی فیصلہ ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

واپسی پر عثمان طارق نے نوشہرہ کے مقامی گراؤنڈز سے دوبارہ آغاز کیا، مایوسیوں کے باوجود مسلسل محنت جاری رکھی اور بالآخر قسمت نے ساتھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: چالیس کے بعد بھی فارم برقرار،ٹی20ورلڈ کپ میں عمر رسیدہ کھلاڑیوں کی فہرست سامنے آ گئی

کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل) میں شاندار کارکردگی کے دوران انہوں نے 10 میچز میں 20 وکٹیں حاصل کر کے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کی اس کے بعد جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے خلاف سیریز میں متاثر کن بولنگ، خصوصاً ہیٹرک، نے ان کی شہرت کو مزید تقویت دی۔

 آسٹریلیا کے خلاف میچ میں اگرچہ ان کے بولنگ ایکشن پر سوالات اٹھے، تاہم پاکستان ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے عثمان طارق کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا ایکشن دو بار کلیئر ہو چکا ہے اور وہ ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔

آج عثمان طارق نہ صرف نوشہرہ بلکہ پورے پاکستان کے لیے امید کی علامت بن چکے ہیں، ان کی جدوجہد نوجوان کھلاڑیوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ محنت، صبر اور یقین کے ساتھ کوئی بھی خواب ناممکن نہیں رہتا۔

Scroll to Top