بنگلادیش انتخابات: عوام کا حتمی فیصلہ سامنے آگیا، کس جماعت نے میدان مار لیا؟

ڈھاکا: بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے میدان مار لیا۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے 299 میں سے 209 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جس کے بعد حکومت سازی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

بی این پی تنہا 151 نشستیں جیت چکی ہے جبکہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق طارق رحمان خود ڈھاکا اور بوگرہ کی نشستوں سے کامیاب قرار پائے ہیں۔

انتخابات میں جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی محض 5 نشستیں حاصل کر سکی۔

کامیابی کے بعد طارق رحمان نے کہا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو تحریک میں ساتھ دینے والوں کو ساتھ لے کر ملک چلائیں گے۔

انہوں نے امن و امان کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو خود کو محفوظ محسوس ہونا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، اس لیے خواتین کی ترقی اور فلاح پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

پارٹی کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے اور کسی بھی قسم کی ریلی یا جشن سے گریز کیا جائے۔

ادھر چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ عوام نے اپنے آئینی حق کا بھرپور استعمال کیا اور بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر جمہوری عمل کو مضبوط بنایا۔

یہ بھی پڑھیں : بنگلا دیش میں دھاندلی الزامات کے بعد سیاسی طوفان، احتجاج کب پھوٹے گا؟

اس بار انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق 66 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔

ریفرنڈم میں عوام سے “ہاں” یا “نہیں” کا انتخاب طلب کیا گیا تھا، جس کے ذریعے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جولائی نیشنل چارٹر کے تحت وسیع آئینی اصلاحات کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق واضح انتخابی نتیجہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ آئینی اصلاحات سے حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ نئی حکومت کب تشکیل پاتی ہے اور آئینی اصلاحات کے عمل کو کس انداز میں آگے بڑھایا جاتا ہے۔

Scroll to Top