مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی صحت سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور اگر انہیں بیرون ملک علاج کے لیے جانا پڑا تو وہ جائیں گے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ سلمان صدر نے عمران خان سے ملاقات کے بعد رپورٹ جمع کروائی تھی اور عدالت کے حکم پر ہی یہ رپورٹ پبلک کی گئی، اس رپورٹ میں حکومت کی جھوٹ پر مبنی دعوے بے نقاب ہوئے ہیں۔
مشیر اطلاعات نے کہا کہ جس طرح عمران خان کے علاج میں کوتاہی کی گئی، وہ قتل کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک عمران خان کو ذاتی معالج کی سہولت نہیں دی جا رہی اور شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز کو معائنہ کرنے دینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی سے بھی عمران خان کی صحت کے حوالے سے غلط بیانی کی گئی تھی اور انہوں نے اکتوبر میں جیل سپرنٹنڈنٹ کو شکایت کی تھی اس لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔
شفیع جان نے مزید واضح کیا کہ عمران خان کے حوالے سے جو ڈاکٹرز مشورہ دیں گے وہ عمل کیا جائے گا اور ان کی صحت اور زندگی سے زیادہ اہم کچھ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو علاج کیلئے بیرونِ ملک بھیجنے کا فیصلہ؟ طارق فضل چوہدری نے بڑا اعلان کر دیا
اس سے قبل وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے بھی کہا تھا کہ اگر عمران خان کو علاج کے لیے بیرون ملک جانا پڑے تو انہیں جانے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان الشفا ہسپتال میں علاج کے لیے راضی ہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں اور ان کی صحت حکومت کی ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عمران خان سے حکومت یا کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں اور ان کا روزانہ کی بنیاد پر طبی معائنہ جاری ہے۔





