متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ فلکیات نے 17 فروری کو ہلال کی رویت کے حوالے سے شہریوں کو اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس روز دوربین یا بائنوکولرز کے ذریعے چاند دیکھنے کی کوشش آنکھوں کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ تاریخ کو سورج گرہن بھی ہوگا اور غروبِ آفتاب کے وقت چاند سورج کے انتہائی قریب واقع ہوگا، جس کے باعث براہِ راست یا منعکس شدہ سورج کی تیز شعاعیں آنکھوں پر پڑنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
ابوظہبی میں قائم انٹرنیشنل آسٹرونومی سینٹرکے مطابق 17 فروری کو ریاض میں غروبِ آفتاب کے وقت سورج اور چاند کے درمیان زاویائی فاصلہ تقریباً ایک درجے کے برابر ہوگا، جو غیر معمولی طور پر کم ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر باریک ہلال موجود بھی ہوا تو وہ سورج کے قرص سے محض آدھا درجہ کے فاصلے پر ہوگا، ایسی صورت میں اگر کوئی شخص دوربین کو ہلال کی سمت میں مرکوز کرے تو امکان ہے کہ سورج یا اس کی تیز روشنی آلے کے میدانِ نظر میں آجائے، جو دیکھنے والے کی بینائی کو عارضی یا حتیٰ کہ مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔
دبئی آسٹرونومی گروپ کی آپریشنز مینیجر خدیجہ الحریری نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سورج گرہن دن کے اوقات میں ہوگا تاہم غروبِ آفتاب کے وقت بھی چاند سورج کے غیر معمولی قریب ہوگا، اس لیے غیر محفوظ آلات کے ذریعے مشاہدہ کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا بڑا اعلان! رمضان ریلیف پیکیج کے تحت ہر مستحق خاندان کو 13 ہزار روپے ملیں گے
ماہرین نے مزید وضاحت کی کہ اگر کوئی شخص سورج کے مکمل غروب ہونے کا انتظار بھی کرے تو اس وقت تک چاند کا نچلا حصہ افق سے نیچے جا چکا ہوگا، جس کے باعث ہلال کی رویت عملاً ممکن نہیں رہے گی۔





