پاک بھارت میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان ہینڈ شیک نہ ہونے کا امکان ہے، جسے کرکٹ حلقوں میں غیر روایتی اور کھیل کی روح کے منافی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہینڈ شیک نہ کرنے کا فیصلہ بھارتی ٹیم نے کیا ہے، جس پر کرکٹ شائقین اور تجزیہ کار تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایشیا کپ میں روایتی حریف تین بار مد مقابل آئے تھے، اور ہر بار بھارتی کپتان نے ہینڈ شیک نہیں کیا۔ میچ کے اختتام پر ٹیمیں براہِ راست ڈریسنگ روم میں چلی گئیں، جس سے کرکٹ کی روایت اور کھیل کی اخلاقیات پر سوال اٹھ گئے۔
گزشتہ روز ہینڈ شیک کے حوالے سے سوال پر بھارتی کپتان نے کہا تھا’’ہینڈ شیک کے لیے 24 گھنٹے انتظار کر لو، اچھی کرکٹ کھیلنے آئے ہیں، اچھی کرکٹ کھیلیں گے۔ ہینڈ شیک کا سسپنس کل ختم کر دیں گے۔ ابھی کھانا کھائیں، سو جائیں، کل دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہینڈ شیک نہ ہونے سے نہ صرف کرکٹ کی روایتی ساخت متاثر ہو رہی ہے بلکہ کھیل کے دوران روایتی آداب اور کھلاڑیوں کے تعلقات پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
اب پاک بھارت میچ کے شائقین کی نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ کیا عالمی سطح پر سب سے زیادہ متوقع اور سنسنی خیز ٹاکرے میں بھی روایتی سلام اور کھیل کی اسپرٹ برقرار رہ پائے گی یا نہیں۔





