اسلام آباد: وفاقی وزیر اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے خیبرپختونخوا میں راستوں کی بندش اور عوام کو درپیش شدید مشکلات پر دو ٹوک اور واضح بیان دیا ہے۔
سوات سے اسلام آباد آنے کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ راستے میں بچوں، خواتین اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا تھا، جنہیں شدید تکالیف کا سامنا ہے۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عوام کا کیا قصور ہے جس کی سزا انہیں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کی عوام کا کیا جرم ہے؟ یہ سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے صوبے میں جاری صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج اور کل کے جو واقعات تحریک انصاف کی جانب سے کیے گئے، وہ نو مئی کے واقعات سے کم نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موٹرے بند کیا گیا جس کی وجہ سے عوام شدید تکلیف برداشت کر رہے ہیں، لوگ اپنے کاموں کے لیے سفر نہیں کر پا رہے، اور ان کے فلائٹس بھی مس ہو رہی ہیں۔
امیرمقام نے مزید کہا کہ مریضوں کو اسپتال جانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور عوام کی روزمرہ کی زندگی پر اس بندش کے اثرات پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر خیبرپختونخوا کے آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا کہ عوام کو تکلیف پہنچانے والے افراد کے خلاف فوراً ایف آئی آر درج کی جائے۔
انجینئر امیرمقام نے اس صورتحال کو انتہائی سنگین اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ظلم دیکھ کر مجھے نیند نہیں آئے گی، تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔
انہوں نے صوبے کے عوام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے تین مرتبہ تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا، اور اس کے بدلے انہیں یہ سزا دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سیروتفریح کا شوق، مردان میں نوجوان کی جان لے گیا
وفاقی وزیر نے اس صورتحال کو سب سے بڑی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف ظلم ہے، اور ایسے حالات میں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیدی کا کیس عدالتوں میں لڑیں، ان لوگوں کا کیا قصور ہے جو اس ظلم کا شکار ہو رہے ہیں؟
انجینئر امیر مقام نے اس بات پر زور دیا کہ تحریک انصاف کی جانب سے عوامی مشکلات میں اضافے کی صورتحال کو فوری طور پر حل کیا جائے اور عوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے عوام کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔
انہوں نے آخر میں ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لے اور عوام کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کا خاتمہ کرے تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کی مشکلات کم ہو سکیں۔





