ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں اہم میچ میں شکست کے بعد پاکستان کی سپر ایٹ مرحلے تک رسائی مشکل میں پڑ گئی ہے۔
گروپ اے کے اس بڑے مقابلے میں 61 رنز کی شکست نے نہ صرف قومی ٹیم کی پوزیشن کو کمزور کیا بلکہ نیٹ رن ریٹ پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔
بھارت کے خلاف ناکامی کے بعد پاکستان کا نیٹ رن ریٹ 0.932 سے گر کر منفی 0.403 ہو گیا ہے، جس کے باعث پوائنٹس ٹیبل پر قومی ٹیم امریکا سے بھی نیچے آ گئی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے 4 میچز میں 2 فتوحات کے ساتھ 4 پوائنٹس حاصل کر رکھے ہیں اور اس کا نیٹ رن ریٹ 0.788 ہے، جس سے اس کی پوزیشن مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔
بھارت اس کامیابی کے بعد گروپ اے سے سپر ایٹ مرحلے میں رسائی حاصل کر چکا ہے، جبکہ پاکستان کے لیے اب اگلا میچ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
قومی ٹیم کو اپنا آخری گروپ میچ لازمی طور پر جیتنا ہوگا تاکہ اگلے مرحلے میں جانے کی امید برقرار رہ سکے۔
پاکستان کا آخری گروپ میچ نمیبیا کے خلاف 18 فروری کو کھیلا جائے گا۔ سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے نہ صرف کامیابی ضروری ہے بلکہ بہتر مارجن سے جیت بھی قومی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
کرکٹ شائقین کی نظریں اب اس فیصلہ کن مقابلے پر مرکوز ہیں، جہاں پاکستان کے پاس ٹورنامنٹ میں بقا کا آخری موقع ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، بھارت نے پاکستان کو شکست دے دی
آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے اہم مقابلے میں بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست ددی۔
بھارت کے 176 رنز کے ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم صرف 114 رنز پر آؤٹ ہوگئی ۔
بھارت کے خلاف اہم میچ میں قومی ٹیم کا ٹاپ آرڈر بری طرح ناکام رہا اور بڑے نام توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔
اوپنر صاحبزادہ فرحان کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے، جبکہ بابر اعظم صرف 5 رنز بنا سکے،سلمان آغا 4 اور صائم ایوب 6 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔
درمیانی اوورز میں عثمان خان نے کچھ مزاحمت دکھائی اور 44 رنز کی اننگز کھیلی، تاہم انہیں دوسرے اینڈ سے خاطر خواہ سپورٹ نہ مل سکی۔
محمد نواز بھی کریز پر زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور صرف 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔
قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر دباؤ میں بکھرتی نظر آئی اور تو چل میں آیا والی روایت برقرار رہی،کوئی بھی بیٹر ذمہ داری سے اننگز کو آگے نہ بڑھا سکا۔
بھارتی بولرز نے نپی تلی لائن اور لینتھ کے ساتھ پاکستانی بیٹرز کو جم کر کھیلنے کا موقع نہ دیا اور اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کر کے میچ یکطرفہ بنا دیا۔





