اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ ماہ رمضان کا آغاز 19 فروری سے ہونے کا امکان ہے، کیونکہ رمضان کا چاند 18 فروری کی شام نظر آنے کا امکان ہے۔ یہ 29 شعبان 1447 ہجری کے مطابق بدھ کے روز ہوگا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق فلکیاتی پیرامیٹرز کے مطابق چاند کی پیدائش 17 فروری کو شام 5 بجکر 1 منٹ پر متوقع ہے، اور 18 فروری کی شام غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر 25 گھنٹے 48 منٹ سے زائد ہو گی، جس سے اسے دیکھنا آسان ہوگا۔
ساحلی علاقوں میں غروبِ آفتاب اور غروبِ ماہتاب کے درمیان تقریباً 59 منٹ کا فرق ہوگا، جو چاند کے دیکھنے کے لیے سازگار حالات فراہم کرے گا۔ اکثر علاقوں میں موسم صاف رہنے کی توقع ہے، جس سے رویتِ ہلال میں آسانی ہو گی۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ رمضان کے پہلے روز کی رویتِ ہلال کی تصدیق مختلف علاقوں میں مختلف ہو سکتی ہے، لیکن ابتدائی فلکیاتی حسابات کے مطابق 19 فروری سے رمضان کی آمد متوقع ہے۔
یہ پیشگوئی عوام کو ماہِ صیام کے لیے تیار رہنے اور عبادات کے آغاز کی تیاری کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں : اس سال صدقہ فطر اور روزے کا فدیہ کتنا ہوگا؟ اعلان ہوگیا
جبکہ دوسری جانب اسلامی نظریاتی کونسل نے کی جانب سے صدقہ فطر کا اعلان کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے صدقہ فطر و فدیہ صوم کا نصاب جاری کردیا، چیئرمین ڈاکٹرراغب حسین نے بتایا کہ رواں سال صدقہ فطر و فدیہ صوم کم ازکم 220 روپے فی کس ادا کیا جائے۔
نصاب کے تحت گندم 220، جو 450 اور کھجور کے حساب سے 1650 صدقہ فطر وفدیہ صوم ادا کیا جائے جبکہ کشمش 2500 روپے ، منقیٰ کے حساب 5000 روپے صدقہ فطر و صوم ادا کرنا ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ 30 روزوں کا فدیہ بالترتیب گندم کے حساب سے 6600 روپے بنتا ہے، 30 روزوں کا فدیہ بالترتیب جو کے حساب سے 13500 روپے بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کیلئے اجلاس 28 فروری کو ہوگا
بیان میں کہا گیا کہ 30 روزوں کا فدیہ بالترتیب کھجور کے حساب سے 49500 روپے بنتا ہے، 30 روزوں کا فدیہ بالترتیب کشمش کے حساب سے 75000 روپے بنتا ہے، 30 روزوں کا فدیہ بالترتیب منقی کے حساب سے 150000 روپے ادا کرنا ہو گا۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ مخیرحضرات مالی حیثیت کےمطابق صدقہ فطر،فدیہ صوم اداکریں، صدقہ فطرادا کرنا ہرغلام اور آزاد، مرد اور عورت مسلمان پرفرض ہے۔
واضح رہے کہ رمضان کے اختتام پر مسلمان صدقہ فطر ادا کرتے ہیں اور مسلمان ماہ صیام میں فطرہ کا خاص اہتمام کرتے ہیں جبکہ ہر سال کی شرح کے حساب سے شریعہ بورڈ اور علما اس رقم کی مقدار مقرر کرتے ہیں۔





