زبانیں صرف ثقافتی ورثہ نہیں بلکہ سیاسی شعور، تاریخی تسلسل اور قومی خودمختاری کی اساس ہوتی ہیں،ایمل ولی خان

زبانیں صرف ثقافتی ورثہ نہیں بلکہ سیاسی شعور، تاریخی تسلسل اور قومی خودمختاری کی اساس ہوتی ہیں،ایمل ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ زبانیں صرف ثقافتی ورثہ نہیں بلکہ سیاسی شعور، تاریخی تسلسل اور قومی خودمختاری کی اساس ہوتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ جو قومیں اپنی زبان پر فخر نہیں کرتیں وہ اپنی فکری آزادی بھی برقرار نہیں رکھ سکتیں۔

ایمل ولی خان نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 21 فروری ہمیں ان بہادر نوجوانوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی مادری زبان کے لیے بیش بہا قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اے این پی سمجھتی ہے کہ لسانی شناخت کو دبانے کی ہر کوشش انسانی تنوع اور جمہوری اقدار کے خلاف اقدام ہے۔ پاکستان میں بولی جانے والی ہر زبان کو آئینی، تعلیمی اور انتظامی سطح پر مساوی احترام دینا ناگزیر ہے۔

انہوں نے سائنسی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مادری زبان میں بنیادی تعلیم بچوں کی ذہنی نشوونما، تخلیقی سوچ اور خود اعتمادی کو مستحکم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں یقینی بنائے اور اعلیٰ سطح پر علاقائی زبانوں میں تحقیق و اشاعت کی حوصلہ افزائی کرے۔

اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ زبانوں کا تحفظ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ یہ سیاسی و سماجی انصاف کا تقاضا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی لسانی حقوق، ثقافتی بقا اور فکری خودمختاری کے لیے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ ہم ایک ایسے وفاقی پارلیمانی نظام کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے جہاں ہر زبان کو برابری، احترام اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔

Scroll to Top