معروف نعتیہ شاعر سید سلمان گیلانی طویل علالت کے بعد 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
وہ گزشتہ کئی روز سے اسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں آج وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
سید سلمان گیلانی کو مذہبی اور ادبی حلقوں میں خاص مقام حاصل تھا۔ ان کا تعلق ایک علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد سید امین گیلانی تحریکِ ختمِ نبوت کے سرگرم اور نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔
سلمان گیلانی اپنی برجستہ مزاحیہ شاعری اور طنزیہ کلام کی بدولت مشاعروں کی جان سمجھے جاتے تھے۔ ان کا اندازِ بیان شائستگی اور شگفتگی کا حسین امتزاج تھا، جس سے محفلیں زعفران زار ہو جاتیں۔
نعتیہ کلام میں بھی ان کی پہچان نمایاں تھی جس پر انہیں شاعرِ ختمِ نبوت ﷺ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سید سلمان گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے اسے علمی و ادبی دنیا کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی ہے۔





