پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت کے معاملے پر پارٹی اپنی رہنما علیمہ خان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور فیملی کے مؤقف کو ترجیح دی جائے گی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے بتایا کہ عمران خان کو رات کے اندھیرے میں جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا، جو جیل مینوئل کی خلاف ورزی ہے۔
ان کے مطابق پہلے دن سے یہ مؤقف رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر فیملی ہی بات کرے گی اور پارٹی رہنما علیمہ خان کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ وکلا کو چاہیے کہ وہ عمران خان کے کیسز کی پیروی کریں کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ملاقات کے آرڈرز موجود ہیں مگر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے رہائی فورس ہر صورت بنائی جائے گی۔ اس فورس کو اسٹریٹ موومنٹ کے تناظر میں تشکیل دیا جا رہا ہے اور اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے۔ رہائی فورس کی ممبر شپ رمضان کے بعد متعین کی جائے گی۔
خیال رہے کہ حال ہی میں عمران خان کی بہن علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ پارٹی رہنما بغیر اطلاع دیے فیصلے کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : باجوڑ: ابابیل اسکواڈ پر فتنہ الخوارج کا حملہ، 4 شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا
محسن نقوی نے بہنوں کو عمران خان کے علاج میں رکاوٹ قرار دیا، جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر اس معاملے میں غائب رہے جبکہ حامد خان سینیٹر بننے کے بعد منظر سے غائب ہیں۔
بیرسٹر گوہر پارٹی چیئرمین بننے کے باوجود سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز تک نہیں لگوا سکے۔یہ معاملہ پارٹی میں تناؤ اور بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے اختلافات کو واضح کرتا ہے۔
شفیع جان نے زور دیا کہ پارٹی علیمہ خان کے مؤقف کے ساتھ کھڑی رہے گی اور عمران خان کی رہائی اور صحت کے معاملات میں کسی بھی رکاوٹ کو دور کیا جائے گا۔





