امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم امریکی ارکان کانگریس الہان عمر اور رشیدہ طلیب کے خلاف سخت اور متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہےکہ دونوں کو ملک سے نکال دینا چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ الہان عمر اور رشیدہ طلیب کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا جائے۔ ٹرمپ نے دونوں ارکان کانگریس پر ’پاگل‘ اور ’دماغی طور پر بیمار‘ ہونے کے الزامات بھی عائد کیے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب منگل کے روز کانگریس میں ٹرمپ کے خطاب کے دوران الہان عمر اور رشیدہ طلیب نے ان کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔
دوسری جانب امریکی مسلم تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے صدر ٹرمپ کے بیانات کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات سیاسی تقسیم اور نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ منتخب عوامی نمائندوں کے خلاف اس نوعیت کی زبان جمہوری اقدار کے منافی ہے اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہر آپشن استعمال کرسکتے ہیں، وائٹ ہاؤس
یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے معاملے میں پہلی ترجیح ہمیشہ سفارتکاری رہی ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر وہ طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور وہ کسی بھی فیصلے میں عالمی اور قومی مفادات کو مدنظر رکھیں گے۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو آج کانگریس کی اہم قیادت کو ایران سے متعلق تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔
رائٹرز نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مارکو روبیو ایران کے جوہری پروگرام، سفارتی پیش رفت، اور ممکنہ فوجی آپشنز سے متعلق قانون سازوں کو آگاہ کریں گے تاکہ کانگریس مناسب فیصلے کے لیے بروقت معلومات حاصل کرے۔
صدر ٹرمپ نے 19 فروری کو ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی، تاکہ ایران مذاکرات کے ذریعے عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مہلت امریکہ کی سفارتی کوششوں اور دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ تھی۔





