واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے معاملے میں پہلی ترجیح ہمیشہ سفارتکاری رہی ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر وہ طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور وہ کسی بھی فیصلے میں عالمی اور قومی مفادات کو مدنظر رکھیں گے۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو آج کانگریس کی اہم قیادت کو ایران سے متعلق تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔
رائٹرز نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مارکو روبیو ایران کے جوہری پروگرام، سفارتی پیش رفت، اور ممکنہ فوجی آپشنز سے متعلق قانون سازوں کو آگاہ کریں گے تاکہ کانگریس مناسب فیصلے کے لیے بروقت معلومات حاصل کرے۔
صدر ٹرمپ نے 19 فروری کو ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی، تاکہ ایران مذاکرات کے ذریعے عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مہلت امریکہ کی سفارتی کوششوں اور دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں : ای سی سی نے 5 لاکھ ٹن گندم فروخت کی منظوری دے دی، قیمتیں بھی طے
امکان ہے کہ صدر ٹرمپ کانگریس سے خطاب کے دوران ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، اور ممکنہ فوجی کارروائی پر اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت علاقائی سلامتی اور عالمی سیاست پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ موقف یہ واضح کرتا ہے کہ سفارتکاری اولین ترجیح ہے، لیکن اگر ایران مذاکرات میں ناکام ہوتا ہے تو امریکی فوجی طاقت کا استعمال بھی ایک متوقع آپشن ہے۔
اس فیصلے نے نہ صرف واشنگٹن بلکہ یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بھی سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کی توجہ مبذول کر دی ہے۔





