پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی کے دوران افغان طالبان کے شرمناک اقدامات کا انکشاف ہوا ہے، جس میں انہوں نے دین اور شریعت کے نام پر معصوم ذہنوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک کارروائی کے دوران پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان حملہ آور کو گرفتار کیا، جس پر ہوش ربا حقائق سامنے آئے۔
گرفتاری کے وقت نوجوان زار و قطار رونے لگا اور معافیاں مانگتے ہوئے واسطے دینے لگا۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ نوجوان حقیقت میں ایک بچہ تھا جسے جہاد کے نام پر برین واش کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ افغان طالبان کے پاس لڑنے کا حوصلہ ختم ہو چکا ہے اور وہ معصوم بچوں کو آگے کر کے خود پیچھے چھپ رہے ہیں۔
پاکستانی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے بچوں کو جنگی ایندھن بنانے کے اس عمل کا فوری نوٹس لے۔
یہ بھی پڑھیں : پاک فضائیہ کی فضائی کارروائی، طالبان وزیرِ تعلیم ندا محمد ندیم ہلاک
بین الاقوامی خبر رساں ادارے امواج نیوز (Amwaj News) نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک فضائیہ کی جانب سے کی گئی ایک ہدف شدہ فضائی کارروائی میں افغان طالبان کے اہم ترین وزیر ندا محمد ندیم ہلاک ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان وزیر ندا محمد ندیم اس وقت پاک فضائیہ کے نشانے پر آئے جب وہ پاک افغان سرحد پر واقع علاقے سپن بولدک کے قریب اپنی افواج کو متحرک (Mobilize) کرنے اور پاکستانی سرحد پر حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔
پاکستانی شاہینوں نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر درست ہدف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ندا محمد ندیم اپنے کئی ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں : پاک فوج کی موثر کارروائی: 58 افغان خارجی ہلاک، 100 زخمی، پوسٹیں و بٹالین تباہ، 30 سے زائد ٹینکس و اے پی سیز ختم، مزید حملے جاری
ندا محمد ندیم افغان طالبان کی کابینہ میں وزیرِ اعلیٰ تعلیم کے عہدے پر فائز تھے اور انہیں افغان طالبان کے سخت گیر نظریاتی دھڑے کا اہم ستون مانا جاتا تھا۔ وہ سرحد پر پاکستانی فورسز کے خلاف اشتعال انگیزی اور جنگجوؤں کو منظم کرنے میں پیش پیش تھے۔





