پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے 133 خارجی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں دشمن کے دفاعی اہداف کو تباہ کیا گیا ہے۔ مزید ہلاکتوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آپریشن کے دوران افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئی ہیں اور 9 پوسٹوں پر پاک فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔
علاوہ ازیں دشمن کے دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرزاور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دیے گئے ہیں۔
آپریشن غضب للحق، صبح 3:40، 27 فروری 2026
▫️ افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک ہونے کی تصدیق، 200 سے زائد زخمی۔ کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس میں مزید ہلاکتوں کا امکان ہے۔
▫️ افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ، 9 پوسٹوں پر قبضہ…— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 26, 2026
پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائیاں سرحدی تحفظ اور ملک کے دفاع کے لیے جاری ہیں۔
عطا تارڑ نے ٹویٹر پر کہا آپریشن غضب للحق میں پاک فوج نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ یہ کارروائیاں ہمارے سرحدی دفاع اور قومی سلامتی کے لیے اہم ہیں۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : وطنِ عزیز کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں، دشمن کو ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، وزیراعظم
جبکہ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پاک فوج کی افواج کو افغان طالبان کو منہ توڑ جواب دینے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ افواج پاکستان جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور ملک کے امن و تحفظ پر کسی بھی حال میں آنچ نہیں آنے دیں گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج جذبے کے ساتھ فرائض انجام دے رہی ہیں اور ہر محاذ پر دشمن کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ افواجِ پاکستان پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مؤثر دفاعی حکمت عملی سے لیس ہیں اور کسی بھی اندرونی یا بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا وطنِ عزیز کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دشمن کو ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔





