یو اے ای نے تہران میں سفارتخانہ بند کر دیا، سفیر فوری طور پر واپس بلا لیا

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران میں اپنا سفارتخانہ بند کرنے اور اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے، یہ فیصلہ ایرانی حملوں کے فوری ردعمل کے طور پر کیا گیا ہے جن میں یو اے ای کی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ تہران میں واقع سفارتخانہ بند کیا جا رہا ہے اور تمام سفارتی عملے کو واپس بلایا جا رہا ہے۔

وزارتِ خارجہ کی ڈائریکٹر برائے اسٹریٹجک کمیونیکیشن، افرا الحمیلی، نے بیان میں ایرانی میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام شہریوں کی حفاظت اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایرانی میزائل حملے براہِ راست یو اے ای کی سرزمین کو نشانہ بنا رہے تھے، جن میں شہری مقامات، رہائشی علاقے، ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور دیگر سروس سہولیات شامل تھیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کی جان خطرے میں پڑ گئی۔

افرا الحمیلی نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات پر گہرا اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : باجوڑ: سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند

یو اے ای کے اس اقدام سے نہ صرف ایران بلکہ پورے خلیج میں امن و سلامتی کی صورتحال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

یاد رہے کہ ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون فائر کیے تھے، جو دبئی ایئرپورٹ سمیت متعدد عمارتوں میں گرے، جس کے نتیجے میں پاکستانی سمیت 3 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

یو اے ای نے پہلے بھی ایران کو خبردار کیا تھا کہ اس کی سرزمین پر کسی قسم کا حملہ نہ کیا جائے، لیکن ایران کا موقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد خلیجی ممالک نہیں بلکہ وہاں موجود امریکی اڈے ہیں، جنہیں ایران امریکی زمین سمجھتا ہے۔

Scroll to Top