ایران نے خلیج میں حالات کو پرامن بنانے کی آمادگی ظاہر کی، عمان کا دعویٰ

عمان: عمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خلیج میں موجود کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق عمانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے میں اس عزم کا اظہار کیا کہ تہران سنجیدہ اقدامات کے ذریعے خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے ایران پر حملوں میں شدت بڑھا دی ہے اور ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی حملوں میں ایرانی نیوی کا ہیڈکوارٹر تباہ کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مزید کہا کہ امریکی فوج ایرانی بحریہ کے خلاف کارروائی کر رہی ہے اور اب تک ایرانی بحریہ کے 9 جنگی جہاز تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ باقی جہاز بھی نشانہ بن رہے ہیں۔

انہوں نے ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ باقی ماندہ جنگی جہاز بھی جلد سمندر کی تہہ میں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : یو اے ای نے تہران میں سفارتخانہ بند کر دیا، سفیر فوری طور پر واپس بلا لیا

خبر ایجنسی کے مطابق امریکا نے بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیارے براہِ راست امریکا سے روانہ کیے، جنہوں نے ایران کے زیرِ زمین اور مضبوط میزائل ٹھکانوں پر 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں سے حملے کیے۔

دوسری جانب ایران کی فوج نے امریکی حملوں کا جواب دیتے ہوئے سیکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملوں میں تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔

Scroll to Top