افغانستان کا مستقبل داؤ پر؟ سابق نائب وزیر خارجہ کی پالیسیوں پر تنقید، اصلاحات کا مطالبہ

افغانستان کا مستقبل داؤ پر؟ سابق نائب وزیر خارجہ کی پالیسیوں پر تنقید، اصلاحات کا مطالبہ

سابق افغان نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی کی قیادت پر تنقید، پالیسی میں اصلاحات کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے سابق نائب وزیر خارجہ برائے خارجہ امور، شیر محمد عباس ستانکزئی نے موجودہ افغان قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ معاہدہ افغانستان کے لیے عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے اور بین الاقوامی اعتماد حاصل کرنے کا ایک نادر موقع تھا، جس سے مؤثر انداز میں فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔

جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ستانکزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ دوحہ معاہدے کے بعد افغانستان کے پاس عالمی برادری کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے، اقتصادی بحالی کی راہ ہموار کرنے اور علاقائی استحکام میں کردار ادا کرنے کا سنہری موقع موجود تھا۔ تاہم ان کے مطابق کمزور طرز حکمرانی اور اہم علاقائی شراکت داروں کے ساتھ کشیدہ تعلقات نے ملک کو دوبارہ سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

انہوں نے بالخصوص پاکستان، روس اور چین جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ یہ ممالک افغانستان کے لیے معاشی اور سیاسی لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ ان کے بقول اگر ان تعلقات کو دانشمندی سے نہ سنبھالا گیا تو افغانستان کو مزید اقتصادی دباؤ اور عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ستانکزئی نے قیادت پر زور دیا کہ وہ پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور داخلی و خارجی امور میں زیادہ اعتدال اور حکمت عملی اپنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا مستقبل اور پورے خطے کا استحکام دانشمندانہ فیصلوں اور ذمہ دار قیادت سے مشروط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں افغانستان کو ایک ایسی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو عالمی برادری کا اعتماد بحال کرے، علاقائی تعاون کو فروغ دے اور ملک کے اندر سیاسی و معاشی استحکام کو یقینی بنائے۔

ماہرین کے مطابق ایسے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان قیادت کے اندر بھی پالیسیوں پر اختلافات موجود ہیں، جو مستقبل کی سیاسی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top