سہیل آفریدی کا ایرانی قونصل خانے کا دورہ، پاکستان اور خیبرپختونخوا ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کے لیے پشاور میں ایرانی قونصل خانے کا دورہ کیا اور قونصل جنرل علی بنفشہ خوا سے ملاقات کی۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور مرحوم رہنما کے انتقال کو نہ صرف ایران بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اس وقت امت مسلمہ کی نمائندگی کرنے والے دو بڑے رہنما تھے، جن میں سے ایک شہید ہو چکا ہے جبکہ دوسرا قید میں ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کو اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دشمنوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو تقسیم کرنے یا ان پر حملے کرنے کی کوشش کی ہے، اور قرآن بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پاکستان اور خیبرپختونخوا کے عوام ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اتحاد میں کھڑے ہیں اور اگر ایران کو طبی امداد، ڈاکٹرز، ادویات، اسپیشلسٹ نرسنگ یا کسی بھی قسم کی انسانی مدد کی ضرورت پڑی تو خیبرپختونخوا بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ مسلمان متحد ہو کر ہر چیلنج کا مقابلہ کریں اور اللہ ہمیں بھی شہادت کا درجہ عطا کرے۔

اس موقع پر ایرانی قونصل جنرل علی بنفشہ خوا نے وزیر اعلیٰ اور ان کے وفد کے دورے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کیا جو پوری ایرانی قوم کے لیے باپ کی حیثیت رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کی نئی قیادت پر ٹرمپ کا سخت ردعمل سامنے آگیا

قونصل جنرل نے سپریم لیڈر کو ایک عظیم انقلابی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسلام اور مسلم دنیا کے اتحاد کے لیے نمایاں کردار ادا کیا اور ہمیشہ شہادت کی آرزو رکھی۔

علی بنفشہ خوا نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی، مگر اپنے دفاع کے لیے آخری سانس تک لڑے گا اور جھکنے کے بجائے مرنا پسند کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھے، جن میں سپریم لیڈر کی اہلیہ اور پوتے پوتیاں بھی شہید ہوئے جبکہ 160 اسکول کے بچے بھی جاں بحق ہوئے۔

قونصل جنرل نے مزید کہا کہ ایران کو یقین ہے کہ اللہ کی مدد اور برادر ملک پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام کی حمایت اسے مزید طاقت دے گی، اور یہی اتحاد اسرائیل کے لیے خوف کا سبب ہے۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں یہ دورہ ایران اور پاکستان کے درمیان باہمی یکجہتی اور تعاون کے اظہار کے طور پر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

Scroll to Top