اسلام آباد: وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے اہم وضاحتیں جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ ایک مجبوری کے تحت کیا گیا اور جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، قیمتیں اسی پھرتی کے ساتھ کم کر دی جائیں گی۔
اس سلسلے میں حکومت ہفتہ وار بنیاد پر قیمتوں کا جائزہ لے گی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ کم سے کم رہے۔
وزیر نے کہا کہ جن تاجروں نے پیٹرول کی فروخت روک کر ناجائز منافع خوری کی، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے موجودہ عالمی صورتحال کے مطابق اپنے پیٹرولیم ذخائر بڑھا لیے ہیں تاکہ کسی بھی بحران کا مقابلہ کیا جا سکے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہُرمز کا راستہ بند ہونے کے بعد سعودی عرب کی دیگر بندرگاہوں سے تیل پاکستان منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نیول سپلائی چین (PNSC) کے دو بحری جہاز سعودی عرب کے متبادل راستوں سے تیل لا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی قومی کمپنی آرامکو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر پاکستان بڑا بحری جہاز بھیجے تو اس پر بھی تیل کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرول مہنگا کرنے پر سابق وزیراعظم نے کیا وضاحتیں دی تھیں؟ ویڈیو وائرل ہو گئی
اس اقدام سے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں خلل کم سے کم رہے گا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہُرمز کی بندش، پاکستان جیسے ملک کے لیے توانائی کی فراہمی کے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
اس لیے حکومت کی جانب سے ذخائر میں اضافہ اور متبادل بحری راستوں سے تیل کی درآمد ایک حکمت عملی کے طور پر قابلِ ستائش ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ضروریات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات استعمال کریں تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے اور منافع خوروں کی سرگرمیوں کو ناکام بنایا جا سکے۔





