گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!جھوٹے پروپیگنڈے کی حقیقت منظر عام پر آتے ہی بھارت کو اپنے میڈیا کی ریٹنگز معطل کرنا پڑ گئیں

گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!جھوٹے پروپیگنڈے کی حقیقت منظر عام پر آتے ہی بھارت کو اپنے میڈیا کی ریٹنگز معطل کرنا پڑ گئیں

بھارتی میڈیا کی جانب سے عالمی سطح پر پھیلائی جانے والی مبینہ جھوٹی اور من گھڑت خبروں کے باعث بھارت کو ایک مشکل اور شرمناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایران میں جاری جنگ سے متعلق خبروں کے تناظر میں بھارتی نیوز چینلز کی ریٹنگز چار ہفتوں کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب متعدد بھارتی ٹیلی ویژن چینلز کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے بارے میں غیر مصدقہ اور سنسنی خیز خبریں نشر کی جا رہی تھیں، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ بعض چینلز نے حقائق کی تصدیق کیے بغیر ایسی رپورٹس نشر کیں جن سے نہ صرف غلط فہمیاں پیدا ہوئیں بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کے میڈیا پر سوالات اٹھنے لگے۔

معروف وی لاگر اور تجزیہ کار منصور علی خان نے اپنے وی لاگ میں اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے کئی نیوز چینلز ریٹنگ حاصل کرنے کی دوڑ میں اس حد تک آگے نکل گئے ہیں کہ وہ بغیر تصدیق کے خبریں نشر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ چینلز زیادہ ناظرین حاصل کرنے اور سنسنی پھیلانے کے لیے مسلسل مبالغہ آمیز اور بعض اوقات جعلی خبریں نشر کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اب مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک کی جانب سے بھی بھارت پر دباؤ بڑھنا شروع ہو گیا ہے کہ وہ اپنے میڈیا کو کنٹرول کرے، کیونکہ بھارتی چینلز کی جانب سے نشر کی جانے والی کچھ خبریں حقیقت کے برعکس اور گمراہ کن قرار دی جا رہی تھیں۔

منصور علی خان کے مطابق بھارتی حکومت نے اسی دباؤ کے بعد ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے نیوز چینلز کی ریٹنگز کا نظام چار ہفتوں کے لیے معطل کر دیا ہے تاکہ چینلز سنسنی خیزی اور جھوٹی خبروں کے ذریعے ناظرین حاصل کرنے کی دوڑ سے کچھ حد تک پیچھے ہٹ جائیں۔

واضح رہے کہ بھارتی میڈیا پر اس سے قبل بھی جھوٹی خبروں اور مبالغہ آمیز رپورٹنگ کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران کئی بھارتی چینلز پر غیر مصدقہ اور گمراہ کن خبریں نشر کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ اس مرتبہ بھارتی میڈیا پر ایسی جنگ کے حوالے سے جھوٹی خبریں نشر کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جس سے بھارت کا براہِ راست کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔

منصور علی خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بعض بھارتی چینلز کی رپورٹنگ اس قدر مبالغہ آمیز ہوتی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی بھی وقت یہ خبر بھی نشر کر سکتے ہیں کہ عالمی رہنما کسی تنازع کے حل کے لیے بھارت سے مدد مانگ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس واقعے نے عالمی سطح پر بھارتی میڈیا کی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور یہ معاملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سنسنی خیزی اور ریٹنگ کی دوڑ میں صحافتی اصولوں کو نظر انداز کرنے سے میڈیا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Scroll to Top