شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ عالمی صورتحال کے تناظر میں ملکی معاشی حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی اور اس کے خطے کی معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر حکومت مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے تاکہ ملکی معیشت پر منفی اثرات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی ترقی، سادگی اور بچت پر مبنی ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس منصوبے میں عوام پر اضافی بوجھ کم سے کم رکھا جائے اور عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی جائے۔
وزیراعظم نے اس مقصد کے لیے قائم کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر قابلِ عمل تجاویز پیش کرے تاکہ فوری بنیادوں پر فیصلے کیے جا سکیں۔ اجلاس میں کمیٹی نے وزیراعظم کو اپنی اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے ہی عالمی کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جو اس حوالے سے مسلسل کام کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق اسی پیشگی منصوبہ بندی کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کسی قسم کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا وہ کمیٹی کی سفارشات پر کیا گیا تھا، جس میں عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود صارفین پر ممکنہ حد تک کم بوجھ منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔
وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ مزید فعال انداز میں کام کرتے ہوئے جلد از جلد عوام کے لیے آسان اور قابلِ عمل سفارشات پیش کرے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی پیٹرول پمپ یا کمپنی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی تو اسے فوری طور پر بند کر کے اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور عوام کو ان کی بلا تعطل فراہمی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اور منصوبہ بندی تیار کریں۔
حکام کے مطابق حکومت موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر معیشت کو مستحکم رکھنے اور عوام کو ممکنہ مشکلات سے بچانے کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔





