وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر میں امن و امان کی صورتحال پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا۔
تھانہ علی مسجد کی حدود میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں سمگلرز نے ایڈیشنل ایس ایچ او کو نہتا کر دیا۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ سمگلرز نہ صرف ایڈیشنل ایس ایچ او سے سرکاری اسلحہ اور جیکٹ بھی چھین لی اور باآسانی فرار ہو گئے۔
اس واقعے نے صوبائی حکومت کے “گڈ گورننس” اور پولیس کی رٹ قائم کرنے کے دعووں کا پول کھول دیا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں میں اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ اگر وزیراعلیٰ کے اپنے آبائی ضلع اور حلقے میں پولیس کے ایڈیشنل ایس ایچ او کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے، تو باقی صوبے میں عام پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کا کیا عالم ہوگا؟





