ایران کی جانب سے دبئی اور عراق میں ڈرون حملوں کے بعد اسرائیل نے ردِعمل دیتے ہوئے تہران میں واقع ایک آئل ڈپو کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
امریکا اور اسرائیل نے جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ایران کے تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا ہے، اسرائیلی فوج کے مطابق فضائی کارروائی کے دوران ایران کے فوجی استعمال میں آنے والے متعدد فیول سٹوریج کمپلیکسز پر حملے کیے گئے۔
اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں ایران کی فوج کے لیے ایندھن ذخیرہ کیا جاتا تھا۔
فوجی حکام کے مطابق حملوں کا مقصد ایران کی فوجی لاجسٹکس اور سپلائی نظام کو نقصان پہنچانا تھا تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: میناب کے گرلز پرائمری سکول پر حملہ خود ایران نے کیا، صدر ٹرمپ کا دعویٰ
دوسری جانب عراق کے شہر اربیل میں بھی ایک امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، عرب میڈیا کے مطابق کردستان ریجن میں واقع اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔





