چین نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ یہ جنگ ہونی ہی نہیں چاہیے تھی اور طاقت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی، اس لیے کسی جارحانہ کارروائی کا جواز نہیں بنتا۔
چین نے اپنے بیان میں ایران اور خلیجی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کو پھیلنے سے روکنا انتہائی ضروری ہے اور عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ تعمیری کردار ادا کریں تاکہ علاقائی تناؤ کم ہو سکے۔ وزیر خارجہ وانگ ای نے واضح کیا کہ حملے فوری طور پر بند ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی نقصان اور خطے میں عدم استحکام سے بچا جا سکے۔
چین کے اس موقف کے بعد عالمی سطح پر ایران پر جاری کشیدگی پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی یہ اپیل عالمی طاقتوں کو جنگی کارروائیوں سے روکنے اور سفارتی حل کی طرف راغب کرنے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ چین کی اس اپیل سے قبل روس نے بھی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی تھی اور فوری طور پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق، چین اور روس کی مشترکہ موقف سے عالمی سطح پر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو یہ خطے میں کشیدگی اور انسانی بحران میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ چین اور روس کی اپیلیں عالمی برادری کو مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔
چین کی طرف سے ایران پر حملوں کی مخالفت اور فوری روکنے کے مطالبے کو عالمی سیاسی حلقوں میں اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف خطے میں امن قائم رکھنے بلکہ بڑے ممالک کے تعمیری کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔





