ایران کا پرامن لیکن فیصلہ کن پیغام!امریکی اڈے ہمارے خلاف استعمال ہوئے تو بھرپور جواب دینگے

ایران کا پرامن لیکن فیصلہ کن پیغام!امریکی اڈے ہمارے خلاف استعمال ہوئے تو بھرپور جواب دینگے

ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کے ممکنہ استعمال پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر یہ اڈے ایران کے خلاف استعمال ہوئے تو وہ حقِ دفاع میں کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ یہ موقف ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پیش کیا، جس میں انہوں نے خطے کے ممالک کو بھی پیغام دیا کہ وہ اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

علی لاریجانی نے کہا کہ ایران کو خطے کے دیگر ممالک سے کوئی مسئلہ نہیں، اور خطے کے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ اب ان کی سکیورٹی یقینی نہیں بنا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی اڈے استعمال ہوئے تو ایران حقِ دفاع میں بھرپور کارروائی کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا اور غلط اندازوں میں پھنس گیا ہے۔ لاریجانی نے یہ بھی اطلاع دی کہ کچھ امریکی فوجیوں کو قیدی بھی بنایا گیا ہے۔

ایرانی سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ خامیوں کے باوجود ایرانی قوم دشمنوں کے خلاف متحد ہے اور امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں ایرانی قیادت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے ایران کے سپریم لیڈر اور ایک ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا، یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں اور اسے تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، امریکہ کو اپنے کیے کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے علی لاریجانی نے واضح کیا کہ ایران نے اس اہم تجارتی اور سمندری گزرگاہ کو بند نہیں کیا، تاہم جنگ کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے حالات متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن جارحیت کرنے والوں کو سزا دی جائے گی اور امریکہ کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا ہوگی۔

ماہرین کے مطابق، ایران کا یہ موقف خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران طاقت کے متوازن استعمال اور دفاعی پوزیشن کو واضح کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ بیان نہ صرف ایران کی دفاعی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں پر دباؤ بڑھانے کا بھی عندیہ ہے۔

Scroll to Top