خیبرپختونخوا نے توانائی بچت کے لیے وفاقی حکومت کی ہدایات قبول کر لیں

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی توانائی بچت سے متعلق تجاویز سے اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی فیول بچت سے متعلق تجاویز پر اپنا جواب دے دیا ہے اور اس پر اتفاق کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی توانائی بچت سے متعلق تجاویز کو منظور کیا ہے اور ان پر عمل درآمد کی تیاریاں جاری ہیں۔

وفاقی حکومت نے کورونا کے دوران استعمال ہونے والی پالیسی کے بیشتر نکات صوبائی حکومت کو بھیجے تھے، جن میں مارکیٹوں کو جلد بند کرنے، ورکنگ ڈیز کو ایک دن کم کرنے اور توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ایک دن ورک فرام ہوم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ دفاتر میں 50 فیصد عملے کو روٹیشن پالیسی پر کام کرنے، تعلیمی اداروں میں حاضری کم کرنے اور آن لائن کلاسز کی تجویز بھی دی گئی تھی۔ خیبر پختونخوا کابینہ کے آج ہونے والے اجلاس میں ان تجاویز پر تفصیل سے غور کیا جائے گا۔

پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے توانائی بحران پر صوبوں سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ عید قریب آ رہی ہے، اس لیے مارکیٹس کے لیے ایسی پالیسی بنائی جائے جو کاروبار پر منفی اثرات نہ ڈالے۔

مزمل اسلم نے یہ بھی کہا کہ کفایت شعاری ضروری ہے، لیکن عوامی مفاد کو مدنظر رکھنا بہت اہم ہے۔ ان کے مطابق توانائی بچت کے اقدامات کے باوجود عوام کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس آج طلب ،ایجنڈا جاری

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ آج ہونے والے اجلاس میں فیول بچت کے لیے مختلف تجاویز پر غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دستیابی کو ڈیجیٹلی مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

شہاب علی شاہ نے مزید کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ ذخیرہ اندوزی پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، اور ڈی سیز کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

خیبرپختونخوا حکومت توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کی تجاویز پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ نہ صرف توانائی کی بچت ہو، بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی پر اس کے منفی اثرات بھی کم کیے جا سکیں۔

Scroll to Top