شاہد جان
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے موجودہ علاقائی صورتحال، پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور قومی زرمبادلہ پر بڑھتے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں دو ماہ کے لیے ایندھن بچاؤ اور اخراجات میں کمی سے متعلق جامع اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومتی ادارے ذمہ دارانہ گورننس کو فروغ دیتے ہوئے ایندھن کے استعمال میں کمی اور غیر ضروری اخراجات کو محدود کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق سرکاری امور کو زیادہ تر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ غیر ضروری سفر اور اخراجات کم کیے جا سکیں۔
اس مقصد کے لیے سرکاری اجلاس زیادہ تر آن لائن یا ورچوئل طریقے سے منعقد کیے جائیں گے جبکہ فائلوں کی نقل و حرکت کے لیے ای آفس سسٹم کا مکمل استعمال یقینی بنایا جائے گا۔ صوبائی اور ضلعی سطح کے اجلاس بھی زیادہ تر زوم یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منعقد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
صوبائی حکومت نے سرکاری دفاتر میں حاضری کے نظام میں بھی نرمی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق جہاں ممکن ہو سرکاری ملازمین کو پچاس فیصد تک ورک فرام ہوم کی سہولت دی جا سکے گی جبکہ بین الاضلاعی سرکاری سفر کو کم سے کم رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر میڈیکل یونیورسٹی کارمضان المبارک میں کلاسز کے حوالے سے بڑا فیصلہ
اسی طرح محکمانہ اجلاسوں کو بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منعقد کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ ایندھن کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں بھی واضح کمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری گاڑیوں کے لیے مختص فیول کوٹے میں پچیس فیصد تک کمی کی جائے گی اور غیر ضروری نقل و حرکت کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
تاہم پولیس آپریشنز قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریسکیو سروسز اور دیگر ہنگامی فیلڈ آپریشنز میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومتی پروٹوکول اور سرکاری سفر میں بھی نمایاں کمی کی جائے گی۔ پروٹوکول میں شامل گاڑیوں کے قافلوں کو ضروری حد تک محدود رکھا جائے گا جبکہ سکیورٹی اور اسکواڈ گاڑیوں کی تعداد بھی کم کی جائے گی۔ اسی طرح سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال صرف ہنگامی یا ناگزیر حالات تک محدود رہے گا۔
حکومت نے سرکاری اخراجات میں نظم و ضبط لانے کے لیے غیر ضروری فرنیچر، آلات اور دیگر اشیاء کی خریداری کو محدود کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جبکہ سرکاری تقریبات اور دیگر غیر ضروری اخراجات میں بھی کمی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : موبائل صارفین کے لیے خوشخبری: نیا اسمارٹ فون مارکیٹ میں آ گیا
سفر اور توانائی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق صوبے بھر کے تعلیمی ادارے دو ماہ کے لیے جمعہ اور ہفتہ کو بند رہیں گے جبکہ باقی دنوں میں ہائبرڈ یا آن لائن کلاسز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
اسی طرح عدالتوں کو بھی جہاں ممکن ہو مقدمات کی سماعت ورچوئل طریقے سے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سرکاری دفاتر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اوقات کار میں تبدیلی یا اسٹیگرڈ ٹائمنگ متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
شہری سطح پر توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے شادی ہالز، پلازوں اور مارکیٹس میں غیر ضروری روشنی کو محدود کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے جبکہ شادی ہالز کی تقریبات کو رات گئے تک جاری رکھنے پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ تجارتی مراکز کو اضافی لائٹنگ کم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
ٹریفک اور شہری سفر کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بڑے شہروں میں ٹریفک مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ایندھن کے غیر ضروری استعمال کو کم کیا جا سکے۔ شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری سفر سے گریز کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی۔
اعلامیے میں عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی باقاعدہ نگرانی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ اس مدت کے دوران ٹول ٹیکس یا سڑکوں کے دیگر چارجز میں اضافہ نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کے لیے بھی ممکنہ ریلیف اقدامات زیر غور لائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور: پولیس موبائل ایپ میں شکایات درج کرنے کا جدید فیچر متعارف
زرعی شعبے کو تحفظ دینے کے لیے گندم کی کٹائی کے موسم کے دوران ڈیزل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ زرعی اضلاع میں ڈیزل کی سپلائی کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مارکیٹ اور فیول سپلائی کے نظام کی نگرانی مزید سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ پٹرول پمپس کے ذخائر کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی کی جائے گی جبکہ ذخیرہ اندوزی، اوور پرائسنگ اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اضلاع کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایندھن کی دستیابی سے متعلق باقاعدہ رپورٹیں صوبائی حکومت کو ارسال کریں۔
حکومت نے اس مہم کی قیادت سرکاری اداروں کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حکومتی محکمے خود مثال قائم کرتے ہوئے ایندھن کے بچاؤ اور ذمہ دارانہ حکمرانی کے اقدامات کو فروغ دیں۔ اس سلسلے میں جہاں ممکن ہو اسمبلی اور کابینہ کے اجلاس بھی آن لائن منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق ان اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی صوبائی سیکرٹریز اور ڈویژنل کمشنرز کریں گے جبکہ تمام سرکاری محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین دن کے اندر اندر اس حوالے سے ضروری احکامات جاری کرکے عملی اقدامات شروع کریں۔





