امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور امریکی افواج نے مقررہ وقت سے پہلے ہی ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ایران کے 5 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کی نئی قیادت کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
فلوریڈا میں ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو امریکا ایران کے خلاف جنگ تقریباً جیت چکا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران باضابطہ طور پر شکست کب تسلیم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ابھی مکمل فتح کا اعلان نہیں کیا اور دشمن کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج ایران کے خطرے کا تعاقب جاری رکھیں گی تاکہ اسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق ایران کی نئی قیادت بھی نشانے پر آ سکتی ہے، تاہم فی الحال زمینی فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران اسرائیل کو ختم کرنا چاہتا تھا اور امریکا کے پاس کارروائی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آ جاتے تو خطے میں صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر حملے کیے جبکہ بعض عرب ممالک نے اس تنازع میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے ڈرون حملوں میں 83 فیصد تک کمی آ چکی ہے اور ایران کی ڈرون مینوفیکچرنگ صلاحیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج کے پاس ایسے انٹرسیپٹرز موجود ہیں جو ایرانی ڈرونز کا مؤثر مقابلہ کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کے استعمال سے ایران کی اہم عسکری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، جبکہ ایرانی بحری جہازوں اور ڈرون نظام کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ڈرون بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ سکتی ہے اور تیل کی عالمی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے بعض پابندیاں بھی نرم کی جا سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ امریکا کسی بھی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور ایران کو خطے میں دہشت گردی کی حمایت کا ذمہ دار قرار دیا، جس کی مثال کے طور پر انہوں نے حماس اور حزب اللہ کا ذکر کیا۔





