ایران نے امریکا کی کچھ تجاویز پر اتفاق کر لیا، وائٹ ہاؤس ترجمان

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے بات چیت اچھی نوعیت کی ہے اور ایران نے امریکا کی کچھ تجاویز پر اتفاق کر لیا ہے۔

انہوں نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران کے ساتھ اس معاملے میں ٹائم لائن 4 سے 6 ہفتے کی برقرار ہے۔

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ہمیں ذاتی طور پر کچھ بتانے اور عوامی لحاظ سے کچھ کہنے میں فرق ہوتا ہے۔ ایران نے جو کچھ ہم سے ذاتی طور پر کہا ہے، اس کو جانچا جائے گا اور اسی کے مطابق کارروائی ہوگی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ عرب ممالک سے جنگ کے اخراجات میں مدد لینے کی بات کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ خلیجی ممالک ایران جنگ کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالیں، تاہم یہ ابھی ایک تجویز ہے اور اس پر حتمی فیصلہ صدر خود کریں گے۔

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ امریکا ایران کی جانب سے آبانائے ہرمز کا ٹول ٹیکس لینے کی حمایت نہیں کرتا۔ توقع ہے کہ آنے والے چند روز میں آبانائے ہرمز سے تقریباً 20 ٹینکرز گزریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : کابینہ ڈویژن کی وضاحت: کون سے سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے کٹوتی ہوگی؟

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ امریکا نے انسانی وجوہات کی بنیاد پر روس کو آئل ٹینکر کیوبا بھیجنے کی اجازت دی ہے، لیکن کیوبا کے معاملے میں امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی اور پیغامات صرف ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے ہیں۔

Scroll to Top