پاکستان میں ایل پی جی کی قیمت میں مزید بڑے اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، جس نے صارفین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتوں میں اس ممکنہ اضافے سے عوام کو بچانے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی کشیدگی پاکستان کی توانائی کی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہونے لگی ہے، جس کے نتیجے میں ایل پی جی کی قیمتوں میں 90 سے 100 روپے فی کلو کے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر یہ اضافہ ہوتا ہے تو فی کلو ایل پی جی کی قیمت 500 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ گھریلو سلنڈرز کی قیمت میں ایک ہزار روپے تک اضافہ متوقع ہے، جبکہ کمرشل سلنڈرز کی قیمت 4,500 روپے تک بڑھ سکتی ہے۔ صارفین کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ مستقبل قریب میں قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے لیے تیار رہیں۔
توانائی کے ماہر عرفان کھوکھر نے کہا کہ ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی علامت ہیں اور عام صارفین، خاص طور پر غریب طبقہ، ایل پی جی گیس کی خریداری سے محروم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت میں 238 ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت فوری اقدامات نہ کرے تو توانائی کے شعبے میں یہ اتار چڑھاؤ نہ صرف صارفین کی جیب پر اثر ڈالے گا بلکہ ملکی معیشت پر بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری خریداری سے گریز کریں اور عالمی و مقامی مارکیٹ کے حالات پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہا جا سکے۔





