پشاور میں ادویات نایاب، آپریشن کے آلات 100 فیصد مہنگے، مریض بے بسی کی تصویر بن گئے

پشاور میں ادویات نایاب، آپریشن کے آلات 100 فیصد مہنگے، مریض بے بسی کی تصویر بن گئے

ملک میں میڈیسن مارکیٹوں میں جہاں ایک جانب ادویات کی قلت کا سامنا ہے، وہیں دوسری جانب میڈیکل اور سرجیکل آلات کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث مریضوں کے لیے علاج مزید مشکل ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل ریڈیالوجی آلات سمیت آپریشن میں استعمال ہونے والے سرجیکل آلات کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اس اضافے کے نتیجے میں مختلف ہسپتالوں میں آپریشن کے اخراجات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اعضاء کے آپریشن کی لاگت موجودہ صورتحال میں 2 لاکھ سے بڑھ کر 5 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، جس نے عام شہریوں کے لیے علاج کروانا ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے بیشتر سرجیکل اور میڈیکل آلات یورپی ممالک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ تاہم موجودہ عالمی کشیدہ صورتحال کے باعث ایئر لائنز کے کارگو چارجز اور کوریئر کمپنیوں کے کرایوں میں بھی 100 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔

صحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو نہ صرف علاج کے اخراجات مزید بڑھیں گے بلکہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات کے حصول میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ طبی آلات اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو اس بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Scroll to Top