پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں بال ٹیمپرنگ کے الزام پر فخر زمان پر دو میچز کی پابندی عائد کی گئی تھی، جس کے خلاف قومی کرکٹر نے اپیل دائر کر دی ہے۔
پی ایس ایل کی ٹیکنیکل کمیٹی نے فخر زمان کو لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان کھیلے گئے چھٹے میچ کے دوران گیند کی حالت غیر منصفانہ طریقے سے تبدیل کرنے کا مرتکب قرار دیا تھا، جس پر کراچی کنگز کو پانچ پینلٹی رنز دیے گئے۔
فخر زمان نے الزام کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ وہ گیند کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ میں ملوث نہیں تھے۔ انہوں نے پی ایس ایل کی ٹیکنیکل کمیٹی سے رابطہ کر کے اپنے موقف کی وضاحت کی اور پابندی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی۔
پی سی بی کے مطابق فخر زمان لیول 3 کے قصوروار قرار پائے ہیں اور وہ ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے۔ 35 سالہ فخر زمان نے 215 میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے اور میچ کے فوری بعد ہونے والی سماعت میں الزامات کو مسترد کیا تھا۔
کرکٹ قوانین کے مطابق کھلاڑی سوائے گیند کو چمکانے کے، اس کی حالت تبدیل نہیں کر سکتے۔ قانون 41.3.2 کے تحت کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے گیند کی حالت میں تبدیلی جرم تصور کی جاتی ہے۔ امپائرز اس قسم کے واقعات کی رپورٹ میچ ریفری کو دیتے ہیں، جو متعلقہ کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بال ٹیمپرنگ ثابت،فخر زمان پر دو میچز کی پابندی عائد
اس میچ میں کراچی کنگز کی قیادت آسٹریلوی کرکٹر ڈیوڈ وارنر کر رہے تھے، جو 2018 میں بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر 12 ماہ کی پابندی بھگت چکے ہیں۔
یاد رہے کہ پی ایس ایل 11 میں لاہور قلندرز نے سیکیورٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزی پر اپنی ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔





