آپریشن غضبُ اللحق کے اثرات! دہشتگردی کے بادل چھٹ گئے، مارچ میں ہلاکتوں میں 35 فیصد کمی

’آپریشن غضب للحق‘ کے اثرات نمایاں، دہشتگردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، ’پی آئی سی ایس ایس‘ کی رپورٹ جاری

مارچ میں دہشتگردی سے متعلق ہلاکتوں میں 35 فیصد کمی، آپریشن ’’غضبُ اللحق‘‘ کے مثبت اثرات سامنے آ گئے

تفصیلات کیمطابق ملک بھر میں مارچ کے دوران دہشتگردی سے متعلق ہلاکتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے سرحد پار آپریشن ’’غضبُ اللحق‘‘کے ساتھ منسلک قرار دی جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مارچ میں مجموعی طور پر 331 افراد ہلاک ہوئے، جو کہ فروری کے 506 کے مقابلے میں 35 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران بڑے دہشتگرد حملوں میں کمی دیکھنے میں آئی، اگرچہ حملوں کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق سرحد پار کارروائیوں نے دہشتگردوں کی صلاحیت کو متاثر کیا اور حملوں کی شدت میں کمی آئی۔

اعداد و شمار کے مطابق:
شہری ہلاکتوں میں 70 فیصد کمی (132 سے کم ہو کر 39)
سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں 26 فیصد کمی (80 سے 59)
دہشتگردوں کی ہلاکتوں میں 22 فیصد کمی (294 سے 228)

اسی طرح زخمیوں کی مجموعی تعداد میں بھی 37 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم دہشتگردوں کے زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارچ کے دوران 146 حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ خودکش حملے کم ہو کر صرف ایک رہ گئے، جو فروری میں پانچ تھے۔

مزید برآں، سکیورٹی فورسز نے 41 مشتبہ دہشتگردوں کو گرفتار کیا، جبکہ شدت پسندوں نے 19 افراد کو اغوا بھی کیا۔
صوبائی سطح پر جائزے کے مطابق بلوچستان میں سب سے زیادہ 189 ہلاکتیں ہوئیں، تاہم یہاں بھی 34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں ہلاکتوں میں 42 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں صورتحال تقریباً برقرار رہی۔

پنجاب اور سندھ میں مارچ کے دوران کوئی بڑا دہشتگرد حملہ رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ گلگت بلتستان میں ایک ممکنہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی سے متعلق اموات میں گزشتہ چھ برسوں سے مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ 2025 میں حملوں کی مجموعی تعداد میں معمولی کمی آئی ہے۔

Scroll to Top