مارکیٹس کے اوقات میں بڑی تبدیلی؟ وزیر پیٹرولیم نے اشارہ دے دیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ملکی قیادت توانائی بحران کے پیش نظر مارکیٹس کے اوقات کار میں تبدیلی اور انہیں جلد بند کرنے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ اگر یہ فیصلہ نافذ کیا گیا تو شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کو رات 10 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جبکہ دیگر کاروباری مراکز کو اس سے پہلے بند کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال کے باعث حکومت کو توانائی کے استعمال میں کمی اور بچت کے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سلسلے میں صوبوں سے بھی مشاورت جاری ہے تاکہ کسی بھی فیصلے کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔

علی پرویز ملک نے مزید بتایا کہ وزیر خزانہ آئندہ ہفتے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے اہم ملاقاتوں کے لیے بیرون ملک روانہ ہوں گے، جہاں انہیں پاکستان کو درپیش ممکنہ معاشی دھچکے سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر پورے معاشی فریم ورک کا ازسرنو جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : الیکٹرک سواری بھی اب آسان نہیں، قیمتوں میں ہزاروں روپے اضافہ

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 3.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس رکھوائے تھے، تاہم اگر کسی بھی شراکت دار ملک کی جانب سے اپنے فنڈز کی واپسی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو حکومت اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق قطر سے گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد مقامی گیس فیلڈز سے فوری طور پر 400 سے 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے تاکہ توانائی کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔

حکومتی حلقوں کے مطابق توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید اقدامات سامنے آ سکتے ہیں، جن کا مقصد ملک میں توانائی کی بچت اور معاشی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

Scroll to Top