الیکٹرک بائیکس بھی مہنگی، قیمتوں میں ہزاروں روپے اضافہ

Pakistan SCO Summit 2026

پاکستان میں ماحول دوست سواری کے خواب کو مہنگائی کی نظر لگ گئی ہے کیونکہ آپریشنل لاگت میں مسلسل اضافے کے باعث الیکٹرک بائیکس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

مینوفیکچررز کے مطابق خام مال کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے اور مقامی سطح پر بجلی و لیبر کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے کمپنیوں کو قیمتیں بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔

نئی قیمتوں کے سامنے آنے کے بعد اب ایک معیاری الیکٹرک بائیک خریدنا عام آدمی کے لیے مزید مشکل ہو گیا ہے، جس سے پٹرول کی بچت کے ذریعے اخراجات کم کرنے کی امید رکھنے والے صارفین کو شدید مایوسی کا سامنا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں استحکام کے باوجود بیٹری سیلز اور دیگر درآمدی پرزہ جات پر ڈیوٹی کی وجہ سے مینوفیکچرنگ لاگت بڑھ گئی ہے، جس کا براہِ راست بوجھ اب خریداروں کو اٹھانا پڑے گا۔

ایسے میں صارفین حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں پر مراعات اور ٹیکسوں میں کمی کے منتظر ہیں تاکہ ملک میں ‘گرین انرجی’ کے فروغ کا عمل متاثر نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں : مفتاح اسماعیل نے پیٹرول کی مہنگائی کی اصل وجہ بتا دی

مختلف برانڈز کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق:

بنیادی ماڈل (70cc کے مساوی): ان بائیکس کی قیمتوں میں 15,000 سے 25,000 روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ہائی پرفارمنس ماڈلز: طاقتور موٹر اور لمبی رینج والی بائیکس کی قیمتیں 40,000 روپے تک بڑھ گئی ہیں۔

اسکوٹرز: خواتین اور طلبہ میں مقبول الیکٹرک اسکوٹرز کی قیمتوں میں بھی 10 سے 15 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top