امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دھمکی دیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 2.86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد امریکی خام تیل 115 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح برطانوی خام تیل کی قیمت بھی 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 111 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے مئی کے لیے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق مئی میں یومیہ دو لاکھ بیرل سے زائد تیل کی اضافی پیداوار کی جائے گی۔
اوپیک کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد عالمی توانائی مارکیٹ میں جاری غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنا ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب اور روس سمیت دیگر خلیجی ممالک بھی تیل کی پیداوار بڑھانے پر متفق ہو گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی سیاسی کشیدگی اور پیداوار میں رد و بدل کے باعث آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ برقرار ہے۔





