پاکستان نے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق ایران کی جانب سے مشرقی ریجن میں کیے گئے یہ حملے نہ صرف باعثِ تشویش ہیں بلکہ یہ خطے کے امن و استحکام کو داؤ پر لگانے والی ایک خطرناک کشیدگی ہے۔
بیان کے مطابق حکومتِ پاکستان نے حملوں میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ بزدلانہ کارروائیاں سعودی عرب کی علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ ہیں جن کا مقصد مملکت کے معاشی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ہے۔ پاکستان نے اس مشکل گھڑی میں سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کی سرزمین کا دفاع ایک مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور تحفظ کے لیے اپنی مکمل حمایت پر قائم ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کی مذمت کرتا ہے جو برادر ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان خطے میں امن کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہا تھا، جس سے ان کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا، اور پاکستان اپنی تمام تر سفارتی اور دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی برادری اس اشتعال انگیزی کا نوٹس لے تاکہ خطے کو مزید کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔





