ایران کے سعودی عرب پر حملے سے خطے میں کشیدگی میں شدید اضافے اور صورتحال کے مزید حساس ہونے کا خدشہ ہوگیا ہے، ماہرین

Pakistan SCO Summit 2026

ترجمان دفتر خارجہ نے سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مشرقی ریجن میں کیے گئے یہ حملے باعثِ تشویش ہیں جن سے نہ صرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ خطے کے امن و استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ پاکستان نے اس مشکل گھڑی میں سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کی ہے۔

دفاعی اور سیاسی ماہرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ان حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق جبیل پیٹرو کیمیکل کمپلیکس جیسے معاشی مراکز کو نشانہ بنانا محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ سعودی عرب کی معاشی شہ رگ پر ضرب لگانے کی کوشش ہے، جس سے عالمی منڈیوں اور علاقائی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان امن کے لیے ثالثی کر رہا تھا، جس کا مقصد واضح طور پر ان سفارتی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔

ماہرینِ خارجہ امور کا ماننا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان موجود اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ اب ایک فعال مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی جارحیت کی صورت میں پاکستان اخلاقی اور قانونی طور پر سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے۔

ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر فوری طور پر تناؤ کم نہ کیا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ خود ایران کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بنے گی۔ پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا اور حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top