امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو بھرپور سراہا جا رہا ہے، جبکہ مختلف عالمی رہنماؤں اور ممالک نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا ہے۔
پاؤلو جینٹی لونی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے غیر معمولی قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں نوبیل انعام کا اصل حق دار شاید پاکستان ہے، جس نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
Forse merita il Nobel. Il Pakistan.
— Paolo Gentiloni (@PaoloGentiloni) April 8, 2026
امریکا-ایران جنگ بندی پر مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر اور اردن شامل ہیں۔
عالمی طاقتوں کی جانب سے بھی اس پیش رفت کو سراہا گیا ہے۔ چین، روس اور یورپی ممالک نے جنگ بندی کو خطے میں امن کے لیے اہم قدم قرار دیا۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
برطانیہ کے وزیر اعظم نے اس جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ فرانس کے صدر نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
ادھر جرمنی کے چانسلر نے جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ ترکیے نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کا باضابطہ اعلان، نائب صدر جے ڈی وینس ہفتے کو پاکستان پہنچیں گے
مزید برآں آسٹریلیا، مصر اور ملائیشیا نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
روسی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اس پیش رفت کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا آغاز ممکن ہوگا، جبکہ امریکا کو یوکرین کے معاملے پر بھی سفارتی کوششوں کے لیے مزید وقت مل سکے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔





