ایران کی پرانی 10 نکاتی تجویز رد، نئی تجاویز پر بات چیت میں بڑا موڑ سامنے آ گیا

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی پہلی دس نکاتی تجویز کو ردی کے ڈبے میں پھینک دیا گیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ایران اور پاکستان کے ساتھ دوسری دس نکاتی تجویز پر بات چیت جاری ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ نیو یارک ٹائمز نے پہلی دس نکاتی تجویز کو پھیلا دیا ہے اور یہ رپورٹ کر رہے ہیں کہ امریکا اس پر بات کر رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں امریکا نے اسے رد کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی طرف سے کچھ افراد پروپیگنڈے کے لیے غلط دس نکات پیش کر رہے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ قالیباف کا ٹویٹ دیکھا ہے، 15 نکاتی پلان موجود ہے اور اگر صرف 3 نکات پر اختلاف ہے تو یہ اچھی بات ہے کہ زیادہ تر معاملات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور اسلام آباد میں مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم بات چیت میں بعض افراد کی نیتوں پر عدم اعتماد پایا جاتا ہے اور سودے بازی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

لبنان کی جنگ بندی کے حوالے سے سوال پر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی حکومت نے سمجھا کہ لبنان بھی سیز فائر میں شامل ہو گا، لیکن امریکا نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ اگر ایران چاہتا ہے کہ معاملہ لبنان کی وجہ سے ناکام ہو جائے تو یہ ان کا انتخاب ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کا باضابطہ اعلان، نائب صدر جے ڈی وینس ہفتے کو پاکستان پہنچیں گے

جے ڈی وینس نے بتایا کہ ہرمز میں ٹریفک میں اضافہ ہوا ہے اور تیل کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیل یہ ہے کہ سیز فائر ہو، بات چیت جاری رہے اور ہرمز کھلے رہیں۔ اب ایرانیوں کو اگلا قدم اٹھانا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کر رہا ہے اور ہم ان کے دیے گئے اقدامات کے مطابق جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانیوں پر پابندیاں کم کرنے کے بارے میں بات چیت کر سکتا ہے اور ہمارے پاس لیوریج موجود ہے کہ ہم انہیں بہت کچھ دے سکتے ہیں۔

جے ڈی وینس نے زور دیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ہمیشہ مشکلات سامنے آتی ہیں اور کوئی سیز فائر مکمل طور پر بغیر کسی خامی کے نہیں ہوتا۔

Scroll to Top