وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کو آج ہر جگہ پذیرائی مل رہی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔
وزیراعلی ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے لیڈر کی باتوں پر عمل ہوا تو آج پوری دنیا میں پاکستان کی واہ واہ ہو رہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم پاکستان کے لیے ہیں، اسی لیے انہوں نے نیک نیتی کے ساتھ ملک کی خاطر اپنا جلسہ ملتوی کیا۔
سہیل آفریدی نے سوال کیا کہ سابق وزیراعظم اپنا جلسہ ملتوی کر رہے ہیں، اس سے زیادہ محب وطن اور کون ہو سکتا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ میرا لیڈر اور ان کی اہلیہ بے گناہ قید ہیں، جلسہ ملتوی کرنے کے باوجود خان صاحب کا علاج الشفاء میں نہیں ہو رہا۔
انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے میرے کام کو سراہا ہے اور پیغام بھیجا ہے کہ 10 دن کے اندر صوبے میں بڑے جلسے کا اعلان کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ تمام فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہوں گے جس کے لیے وہ جلد محمود خان اچکزئی اور دیگر قائدین سے ملاقات کریں گے۔
صوبائی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ مکمل نہ ہونے کے باوجود ماشاءاللہ تمام محکموں میں کام بخوبی جاری ہے، تاہم بہتر ایڈمنسٹریشن کے لیے جلد کابینہ کو مکمل کر لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے “روخانہ قبائل” کے نام سے ایک ہزار ارب روپے کی اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ اپنے وسائل سے 50 ارب روپے ضم اضلاع کو دے گا۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جو افغان پاکستان کی معیشت میں مدد دے رہے ہیں انہیں یہاں ہونا چاہیے، لیکن اگر کسی کو واپس بھیجنا ہے تو عزت کے ساتھ بھیجا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان بھی انسان ہیں ان کے ساتھ انسانوں والا رویہ رکھا جائے، اسی لیے صوبائی حکومت واپس جانے والوں کے کھانے اور کرائے کی مد میں مدد کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم افغانستان کے ساتھ بھی مذاکرات کے حامی ہیں۔
امن و امان کے حوالے سے سہیل آفریدی نے بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں سول ڈپلومیسی قائم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے جبکہ ساؤتھ ریجن میں امن کے لیے خصوصی پلان بنایا جا رہا ہے۔





