اسلام آباد میں تاریخی فون کالز، عالمی رہنماوں کی توجہ، شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی سفارتی خدمات کوسراہا گیا

اسلام آباد: پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے اور ملک خطے میں امن کی قیادت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس دوران متعدد عالمی رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرز، اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی، آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹوکر، لبنان کے وزیراعظم نوّاف سلام اور دیگر عالمی رہنما شامل ہیں۔

ان بات چیتوں کے دوران عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جس کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب سے پروازوں کے حوالے سے مسافروں کے لیے اہم اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

امیر قطر کے ساتھ بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن قائم رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا اور پاکستان نے قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا عہد دہرایا۔

جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اور دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔

اسی طرح اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی اور آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹوکر نے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی، جبکہ لبنان کے وزیراعظم نوّاف سلام نے اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی اور پاکستان سے فوری اقدامات کی توقع ظاہر کی۔

اس دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں وزیراعظم کی کامیاب سفارتی کوششوں کی تعریف کی اور قومی اتحاد و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے اس حمایت پر شکریہ ادا کیا اور عزم ظاہر کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران امریکہ مذاکرات،ٹرمپ کا نیتن یاہو سے لبنان پر حملے محدود کرنے کا مطالبہ

سفارتی حلقوں کے مطابق یہ رابطے نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے میں مددگار ہیں بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر پوزیشن کو بھی مضبوط کرتے ہیں، اور دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہو گئی ہیں، جہاں یہ مذاکرات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستان کی یہ کامیابی خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top