اسلام آباد: قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر کانگو بخار کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں اور متعلقہ صوبائی اداروں کو احتیاطی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران جانوروں کی بڑی تعداد میں نقل و حمل کے باعث کانگو وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وائرس عموماً بکری، بھیڑ اور خرگوش جیسے جانوروں کے بالوں میں موجود چیچڑی (ٹک) کے ذریعے پھیلتا ہے، جو کاٹنے یا متاثرہ جانور کے خون کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔
قومی ادارہ صحت کے مطابق عید سے قبل قربانی کے جانوروں کی ملک بھر میں نقل و حمل میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث احتیاطی تدابیر انتہائی ضروری ہو جاتی ہیں۔
ایڈوائزری میں شہریوں بالخصوص بچوں کو جانوروں کے ساتھ غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ جانوروں کو ذبح کرنے اور گوشت تیار کرنے کے دوران دستانوں کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گردوں کی خرابی کی ابتدائی نشانیاں، جاننا ضروری
ادارے کے مطابق بلوچستان میں ہر سال کانگو بخار کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سے بھی کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔ 2024 میں 61 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے جن میں شرح اموات 15 فیصد رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں اب تک 82 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں 20 اموات بھی شامل ہیں، جبکہ رواں سال کے ابتدائی تین ماہ میں مزید 4 کیسز سامنے آئے ہیں۔
قومی ادارہ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں تاکہ چیچڑی کو آسانی سے دیکھا جا سکے، جبکہ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو بھی بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔





