عالمی بینک نے پاکستان کی شرح نمو کا تخمینہ کم کر دیا

اسلام آباد: عالمی بینک نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے منفی اثرات کے باعث پاکستان کی اقتصادی شرح نمو کا تخمینہ رواں مالی سال کے لیے کم کر کے 3 فیصد کر دیا ہے، جو حکومت اور آئی ایم ایف کے پہلے اندازوں سے نمایاں طور پر کم ہے۔

واشنگٹن میں قائم عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ وسیع تر خطے کی معیشتوں کو متاثر کر رہے ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کے 1.2 فیصد تک جا سکتا ہے، جو تقریباً 4.9 ارب ڈالر کے برابر ہے، جبکہ یہ حکومت کے گزشتہ تخمینے سے تقریباً 3 ارب ڈالر زیادہ ہے۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ جنگ کے اثرات کے باعث پاکستان کی معیشت موجودہ مالی سال میں گزشتہ سال کی سطح یعنی 3 فیصد کے قریب ہی رہنے کا امکان ہے۔

ادارے نے یہ بھی بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے کی درجہ بندی میں تبدیلی کے بعد پاکستان کو اب جنوبی ایشیا کے بجائے مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں شامل کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو مالی سال 2025-26 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 4 سے 4.5 فیصد رہنے کا تخمینہ دیا تھا، تاہم عالمی بینک کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں اور بیرونی طلب میں کمی اس ہدف کو متاثر کر سکتی ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو اس کے مہنگائی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عیدالاضحیٰ سے قبل کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ایڈوائزری جاری کردی

رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح 7.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ فی کس آمدن میں اضافہ 1.4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

عالمی بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.3 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، تاہم یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہوگا۔ رپورٹ میں اسٹیٹ بینک کے منافع اور پیٹرولیم لیوی کی زیادہ وصولیوں کو اس بہتری کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں برینٹ خام تیل 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 60 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم مستقبل میں قیمتوں میں کمی کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق مجموعی طور پر خطے کی اقتصادی شرح نمو میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ افغانستان کی معیشت بھی مختلف داخلی اور خارجی عوامل کے باعث شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔

Scroll to Top